7 جولائی 2012 - 23:11

جون 2012 کا مہینہ اور جولائی کے ابتدائی ایام بھی پاکستان بنانے والوں کے لئے مئی کے مہینے سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھے اور ان دنوں میں بھی تحریک پاکستان کے قائدین کو کافر کہنے والوں کے سپوتوں نے اپنا سلسلۂ توحش و درندگی جاری رکھا اور بالفطرہ وحشیوں اور خونخواروں نے اس ایام کو بھی شیعیان آل محمد (ص) کے خون سے رنگ دیا اور یہ بات بار بار دہرانے سے اجتناب کرتے ہوئے عرض کرتے ہيں کہ مظلوموں کو مارنے والے، ان کے قتل پر راضي ہونے والے، روکنے کی طاقت رکھنے کے باوجود نا روکنے والے اور خاموشی سے تماشا دیکھنے والے سب کے سب اس قتل عام میں شریک ہیں اور یوم الحساب بھی ہے چاہے کوئی مانے یا نہ مانے اور یہ یوم الحساب دنیا اور آخرت میں یوم المکافات اور یوم المجازات کے طور پر سامنے آیا کرتا ہے۔ یہاں ایک چھوٹی سی رپورٹ "سرخ سوالیہ نشان" کے عنوان سے پیش کی جارہی ہے جو برادرم قمر رضوی نے ارسال فرمائی ہے۔

چکوال 17 جون 2012

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع چکوال میں ایک امام بارگاہ پر  کالعدم ملک دشمن جماعت کے دہشتگردوں کا حملہ ۔ 3 مومنین شہید۔

کراچی 18 جون 2012

کراچی ناظم آباد نمبر 6 میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے امام بارگاہ نور ایمان کے پیش امام جناب محمد امینی صاحب شہید ہوگئے۔ 

کراچی 18 جون 2012

کراچی کے علاقے پہلوان گوٹھ میں شیعہ آبادی میں کالعدم ملک دشمن دہشتگردوں کی فائرنگ سے 6شیعہ مومنین زخمی ۔

کوئٹہ 18 جون 2012

کوئٹہ کے علاقے سمنگلی روڈ پر ایف آئی اے کے دفتر کے قریب یونیورسٹی کی بس کے قریب دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 3طلباء شہید، جبکہ 30 سے زائد زخمی ۔ دہشگردوں نے  آئی ٹی یونیورسٹی کی ایک بس کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا، بس میں 70 افراد سور تھے، جس میں اکثریت شیعہ طالب علموں پر مشتمل تھی۔

کراچی 22 جون 2012

کراچی کے علاقے شریف آباد میں کالعدم ملک دشمن تنظیم کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے 46 سالہ شیعہ مومن حسن جعفری شہید ہوگئے۔

لاہور 23 جون 2012

دہشتگردوں کی فائرنگ سے بھٹی امام بارگاہ کے متولی میاں آصف شہید ہوگئے۔

کراچی 26 جون 2012

کراچی کے علاقے کھارادر میں کالعدم ملک دشمن جماعت کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے 50 سالہ شیعہ ڈاکٹر محمد علی شہید ہوگئے۔

 ڈیرہ اسمٰعیل خان 28 جون 2012

ڈیرہ اسماعیل خان میں کالعدم ملک دشمن جماعت کے مُسلح دہشتگردوں کی فائرنگ سے ایک شیعہ مومن سید ثقلین کاظمی شدید زخمی ہوگئے۔

کوئٹہ 28 جون 2012

کوئٹہ کے علاقے ہزارگنجی میں ایران سے لوٹنے والے زائرین کی بس پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ۔ 14 زائرین شہید، تیس سے زائد زخمی۔

کراچی 29 جون 2012

 پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے کھارادر میں کالعدم ملک دشمن دہشتگردوں کی فائرنگ سے محمد عمران ولد محمد اسلم نامی شیعہ نوجوان شہید ہوگئے۔

گلگت 1 جولائی 2012

گلگت  کے علاقے بسین میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے 2 شیعہ مومنین زخمی، جبکہ ایک شیعہ مومن شہید ہوگیا۔

 نوابشاہ 2  جولائی 2012

مُسلح دہشتگردوں کی فائرنگ سے سید محمد ابراہیم جعفری شہید ہوگئے۔

 کراچی 2 جولائی 2012

کراچی میں  صدرکے  علاقے بوہری بازار کی ایک دوکان پر دہشتگروں کی فائرنگ سے دوکان کے مالک 43 سالہ  سید حبیب حیدر نقوی شہید ہوگئے۔

 تربت 6 جولائی 2012

ایران جانیوالی بس پر تربت کے مقام پر فائرنگ۔ 18 افراد جاں بحق۔ 

پچھلے چند دنوں کے اخبارات سے تراشیدہ مندرجہ بالا سطور محض اخبارات کی خالی جگہ پر کرنے والی افسانوی، شگفتہ یا چٹکلوں پر مبنی سرخیاں نہیں، بلکہ خون میں نہائی ہوئی سرخ حقیقت ہیں۔ مبالغہ آرائی سے پاک حقائق پر مبنی یہ خطرناک صورتِ حال اگر کسی نویں یا دسویں درجے کے ملک میں بھی پیش آجائے تو وہاں کی حکومت اور اسکی انتظامیہ کی نیندیں حرام کردینے اور اسکی چولیں ہلا دینے کو کافی ہوگی۔ مگر یہ صورتِ حال کسی دسویں درجے کے نہیں، واحد اسلامی ایٹمی قوت پاکستان کی ہے جہاں ایک شیعہ کو مارنا مچھر کے مسل دینے سے زیادہ مشکل کام نہیں۔ وہ ملک جسکا خواب دیکھنے والا شیعہ، اس خواب کی تعبیر میں اپنا سب کچھ گنوا دینے والے شیعہ، اسکی تعبیر پیش کرنے والا شیعہ، اسکا پہلا وزیرِ اعظم شیعہ، اسکے انتظامات چلانے کے لئے ہندوستان سے سرمایہ بھیجنے والا شیعہ، اسکے محافظین شیعہ اور 64 سال کا انتھک سفر کاٹ کر ایٹمی قوت بننے تک کا پاکستان آج بھی کم و بیش 20٪ شیعہ آبادی پر مشتمل ہے۔ یہ ملک حکومت، فوج، عدلیہ، میڈیا، تعلیم، تحقیق، طب اور بیوروکریسی سے لیکر مزدوری تک کے شعبہ جات میں شیعہ حضرات کی نمائیندگی اور خدمات کے ساتھ اپنی منزلوں کی جانب عازمِ سفر ہے۔ لیکن پھر بھی اس سرزمین پر گاجر مولی کی طرح کٹ جانے والا اور مرغی کی طرح ذبح ہوجانیوالا بھی صرف شیعہ ہی کیوں؟

"کالعدم" تنظیم کو اتنی منظم کارروائیوں کی اتنی کھلی چھٹی؟ یہ مذاق ہے یا منصوبہ؟  اس سفاکیت، بربریت، فرعونیت، نمرودیت، شدت، ہندیت اور یزیدیت سے اربابِ اختیار کا صرفِ نظر، اہلِ نظر کے لئے ایک سرخ سوالیہ نشان ہے۔ 

/110

۔۔۔۔۔۔۔۔